Saturday, 24 December 2016

ایک بلاگر ، ایک کتاب



محمد علی مکی نے تجویز پیش کی تھی کہ “ایک بلاگر۔ایک کتاب” کا سلسلہ شروع کیا جائے اور ہر بلاگر کسی بھی ایک کتاب کو یونی کوڈ فارمیٹ میں کمپوز کرکے پیش کرنے کی کوشش کرے۔ اس ضمن میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ یہ منصوبہ منظرنامہ کے پلیٹ فارم سے شروع کیا جائے۔ ہمارے لیے یہ ایک منصوبہ نہیں، بلکہ ایک اپیل ہے، ایک پکار ہے تمام بلاگرز کے لیے کیونکہ منظرنامہ فی الحال ایسے کسی منصوبہ کے لیے تیار نہیں تھا۔ تاہم ہمیں امید ہے کہ ہم مستقل قریب میں اپنے ساتھیوں کی مدد سے ایک شاندار اردو لائبریری پیش کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔
سو، ہماری تمام بلاگر حضرات سے درخواست ہے کہ فرصت کے اوقات میں کسی بھی کتاب یا مختصر سے کتابچہ ہی کو یونیکوڈ فارمیٹ میں لکھنے کا کام شروع کریں۔ کم از کم ایک صفحہ روزانہ لکھنے کی کوشش کریں۔ کمپوزنگ مکمل ہونے کے بعد اس پر ایک نظر بغرض تصحیح بھی ڈالیں اور پھر اپنے بلاگ پر پیش کردیں۔ کام کے نتائج دیکھنے کے بعد اس کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے اور باقاعدہ ایک لائبریری کے قیام کے لیے قدم اٹھایا جائے گا۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمارے اس کام کو اردو محفل سمیت ان تمام محبانِ اردو کا ساتھ اور تعاون میسر رہے گا جو ایسے ہی کسی منصوبے پر کام کررہے ہیں۔
آئیں، اردو زبان کے فروغ کے لیے جاری کوششوں میں آپ بھی ہمارا ساتھ دیں، ایک قدم آگے بڑھائیں اور تاریخ رقم کردیں۔
اب تک جن کتابوں پر کام ہو چکا ہے یا کام جاری ہے، ان کی فہرست آپ کو یہاں ملے گی، اگر آپ اس مہم میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو ہمیں مطلع کریں تاکہ تمام بلاگرز کو اس کا علم ہو سکے۔

اردو بلاگنگ سلسلہ میرا پہلا پوسٹ


اردو بلاگستان کی ایک پرانی روایت اس رمضان اردو بلاگر شعیب صفدر صاحب کی وجہ سے پھر سے تازہ ہوچکی ہے۔ دراصل کچھ عرصہ پہلے جب فیس بک پاکستان میں مقبول نہ تھی تو اردو بلاگرز ایک موضوع کا آغاز کرکے اس پر مختلف بلاگرز کو ٹیگ کر کے لکھنے کی دعوت دیا کرتے تھے اور یہ سلسلہ کافی خوبصورتی کے ساتھ جاری رہتا تھا اور وسیع تر ہوتا جاتا تھا۔ مگر پھر فیس بک کا دور آیا جس کے شکار اردو بلاگرز بری طرح ہوگئے اور کئی پرانی روایات آہستہ آہستہ ختم ہوتی چلی گئیں یہاں تک کہ  جو بلاگرز ایک ماہ میں 4 یا کبھی کبھی 6 تحاریر بھی لکھا کرتے تھے وہ اب 4 یا 6 ماہ میں 2 سے 3 تحاریر پر آگئے۔ گوکہ فیس بک کی وجہ سے اردو بلاگرز کی آواز اب بہت لوگوں تک پہنچ چکی ہے اور بے شمار نئے اردو بلاگرز کا اضافہ بھی ہوا ہے لیکن فیس بک نے اردو بلاگستان کو نقصان یہ دیا کہ اردو بلاگرز بلاگ کے بجائے فیس بک پر ہی اپنی رائے دینے لگ گئے اور بلاگ سے دور ہوتے چلے گئے ایسے میں اردو بلاگستان میں اس رمضان پرانی روایت کا آغاز ایک خوش آئند بات ہے جس کی وجہ شعیب صفدر اور ان کی بلاگ تحریر چڑی روزے سے روزے تک ہے۔